Showing posts with label PakTeaHouse. Show all posts
Showing posts with label PakTeaHouse. Show all posts

Saturday, 6 March 2021

Ghazal-karwan chala Gaya-Pak Tea House Jang

غزل ہم کو اکیلا چھوڑ کر کارواں چلا گیا

راوز نامہ جنگ جنگ کے ادبی صفحہ پاک ٹی ہاؤس میں شائع ہونے والی ڈاکٹر ضیا ء المظہری کی غزل "کارواں چلا گیا" کا تراشہ

روز نامہ جنگ کے ادبی صفحہ پاک ٹی ہاؤس میں شائع ہونے والی ڈاکٹر ضیا ء المظہری کی غزل "کارواں چلا گیا" پیشِ خدمت ہے۔ یہ غزل ۳ مارچ ۲۰۲۱ کو اس صفحہ کی زینت بنی۔

کلامِ شاعر بہ زبانِ شاعر

راوز نامہ جنگ جنگ کے ادبی صفحہ پاک ٹی ہاؤس میں شائع ہونے والی ڈاکٹر ضیا ء المظہری کی غزل "کارواں چلا گیا"

ناقہ گئی محمل گیا سارباں چلا گیا

ہم کو اکیلا چھوڑ کر کارواں چلا گیا

پرسشِ احوال کو ایک بول میٹھا سا کہا

کیا بتائیں کتنا آگے تک گماں چلا گیا

مہر و وفا و عشق کی بات ہم نے چھیڑ دی

روٹھ کر ہم سے ہمارا مہرباں چلا گیا

دلبرانِ شہر کی محفل کو سونا کر گیا

اٹھ کے محفل سے شہِ دلبراں چلا گیا

تشنہ لب ہی لوٹ کے مے کدے سے آگئے

اپنی باری آئی تو پیرِ مغاں چلا گیا

عمل تھا تنویم کا یا حسن کی جادوگری

ہم نے روکا دل مگر کشاں کشاں چلا گیا

سامنے محفل میں جب روئے جاناں آ گیا

رخصت خطابت ہو گئی زورِ بیاں چلاگیا

محنت مشقت ابتلائیں اور پھر یومِ حساب

روتا ہوا آیا یہاں گریہ کناں چلا گیا

بندگی میں زندگی جو نہ گذاری مظہریؔ

زندگی کا سفر جیسے رائیگاں چلا گیا

روزنامہ جنگ کے صفحہ کا لنک درج ذیل ہے۔

https://e.jang.com.pk/03-03-2021/lahore/page11.asp#;

Monday, 8 February 2021

Urdu Adab in New Year 2021

نیا سال ادبی دنیا اور توقعات

سال نو پر ملک کے معروف اہل قلم کی آرا

شاعر، ادیب، ماہرِ امراضِ چشم پروفیسر ڈاکٹر ضیا ء المظہری کی نوائے وقت کے سنڈے میگزین میں شائع ہونے والی تحریر

سالِ گذشتہ یعنی بیس سو بیس ( 20 20 )قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہت سی بے یقینی، اضطراب اور انتشار کی کیفیت میں رخصت ہوا۔ایسی افراتفری اور نظریاتی تضادات گزشتہ کئی دہائیوں میں دیکھنے میں نہیں آئے۔

بقول حضرت اقبال رحمتہ اللہ علیہ

؎ اس دور میں مے اور ہے، جام اور ہے جم اور

ساقی نے بِنا کی روِشِ لُطف و ستم اور

کرونا کے مرض نے بنی نوعِ انسان کو جھنجوڑ کے رکھ دیا ہے۔ بیماری علاج اور اس سے بچاؤ سبھی کچھ کے بارے میں کثیر اختلاف رائے نے بہت سے لوگوں کو ذہنی خلجان میں مبتلا کر دیا ہے۔

؎ بڑھایابہت خوف کو ابلاغی دَجَل نے

بھڑکی ہوئی آتش کو ذرا اور ہوا دی

(ڈاکٹر ضیا ءالمظہری)

ایسے عالم میں اہم سماجی اور ذاتی امور کے بارے میں منظم طور پر غلط تاثرات کی ترویج ہو رہی ہے۔ دنیا ایک عالمی قریہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ مادہ پرست اور انسان دشمن قوتیں سماجی رابطوں، انٹرنیٹ اور کثیر الجہتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام الناس کے ادراک، شعور اور تخیل کو اپنی گرفت میں لینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اور یوں معاشروں کی معاشی، معاشرتی اور سماجی روایات کو ایک مخصوص ڈھانچے میں ڈالنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔

؎ اغراض کی دنیا میں محشر سا بپا ہے

کس نے کسے کیسے کہاں یاد کیا ہے۔

(ضیاءالمظہری)

بیس سو اکیس کی آمد ہو چکی ہے۔ ادبی دنیا کا کردار افراد اور معاشرے کے رویوں اور روایات کے حوالے سے ہمیشہ سے اہمیت کا حامل رہا ہے۔ میری رائے میں شاعروں اور ادیبوں کے لیے لازم ہے کہ شعوری طور پر صحیح اور غلط کی تمیز کو اجاگر کرنے کی کوششوں کا حصہ بنیں۔

ابلاغی دجل کے لگائے ہوئے ذہنی زخموں کو مندمل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ دلوں میں امید کے عنصر پیدا کرنے میں ادبیات سے ہمیشہ کی طرح نیا سال بھی تو قع لگائے ہوئے آیا ہے۔ اس دھوکہ دہی اور افراتفری کے عالم میں محسن انسانیت امام الانبیاء محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا نسخہ جدید دور کے مسلمان کے دل کو تقویت عطا کرنے کے ساتھ تمیز خوب و زشت کو بیدار کرنے کا یہ تیر بہدف حل ہے۔ روایات کے مطابق ہر جمعہ کو پوری سورہ کہف یا اس کی ابتدائی اور آخری آیات کی تلاوت دنیاوی دجل اور فتنہ دجال سے بچنے کے لئے انتہائی مفید ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آنیوالے وقت میں ادبی دنیا اپنی ذمہ داریوں سے انحراف نہیں کرے گی اور اپنے معاشرتی اور سماجی کردار کو بھر پور انداز مین نباہنے میں کامیاب رہے گی۔ تحریر کا اختتام چشمِ بینا سے لئیے گئے ایک شعر پہ کرتا ہوں۔

؎مضطرب سے لوگ مظہرؔ بے سکوں سی زندگی

حق کی دعوت جب چلی تو جائے گا سب کچھ بدل

Thursday, 10 December 2020

Aksar Bhool Jata Hon-Ghazal

روز نامہ جنگ 2 دسمبر 2020 کے ادبی صفحہ "پاک ٹی ہاؤس" کی زینت بننے والی غزل "میں اکثر بھول جاتا ہوں بہت باتیں ضروری سی" "منیر نیازی مرحوم کے لکھے ہوئے اشعار "ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں " سے متاثر ہو کر لکھی۔ علامہ اقبال میڈیکل کالج 90-1985 کے زمانے میں اس کا مطلع لکھا۔ چشمِ بینا کی اشاعت کے موقع پر 2016 میں یہ غزل مکمل ہوئی۔ اس غزل کا تراشہ اور اشعار آپ کی بصارتوں کی نذر ہیں۔ کلام، شاعر بہ زبانِ شاعر کے سلسلہ میں ہمارے یو ٹیوب چینل کا لنک بھی پیشِ خدمت ہے امید ہے آپ کو ہماری یہ کاوش پسند آئے گی۔

غزل

پروفیسر ڈاکٹر ضیاء المظہریؔ

میں اکثر بھول جاتا ہوں بہت باتیں ضروری سی

لبوں پہ ٹوٹ جاتی ہیں تمنائیں ادھوری سی

کسی کا غم بٹانا ہو یا خوشیوں میں شراکت ہو

وہ سندیسے ضروری سے ملاقاتیں ضروری سی

نجانے کیوں ہوا اکثر کہ حسرت رہ گئی دل میں

پسِ اظہار یاد آئیں جو تھیں باتیں ضروری سی

تعلق بھی ادھورا سا محبت بھی ادھوری سی

کہ قربت میں پسِ پردہ ہے حائل کوئی دوری سی

کسی کے ہجر میں جاناں کبھی جاگو تو تم جانو

شبِ فرقت خیالوں میں جو ملتی ہے حضوری سی

ضیاؔء جیسی بھی لکھی ہیں کسی کے نام کر ڈالو

یہ غزلوں اور نظموں کی سوغاتیں ادھوری سی

کلام، شاعر بہ زبانِ شاعر