Showing posts with label urdu. Show all posts
Showing posts with label urdu. Show all posts

Monday, 17 May 2021

Deedar-e-Qamar-Eid Greetings-Urdu

عید الفطر ۲۰۲۱ کے پر مسرت موقع پر تمام اہلِ اسلام کو عید مبارک

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ چاند کی رویت پاکستان ہمیشہ سے مختلف پہلوؤں سے سنجیدہ اور غیر سنجیدہ بحث کا موضوع رہی ہے۔ اسی تناظر میں لکھی ہوئی نظم دیدارِ قمر آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ یہ نظم نوائے وقت میگزین کے سنڈے ایڈیشن میں ۹ مئی ۲۰۲۱ کو شائع ہو چکی ہے ۔ ڈاکٹر ضیا ء المظہری کی اپنی آواز میں ویڈیو بھی آپ کی نذر ہے امید آپ کو پسند آئے گی۔

نظم دیدارِ قمر پیشِ خدمت ہے۔

دیدارِ قمر

بوڑھوں کی نظر سے نہ جوانوں کی نظر سے

آتا ہے نظر چاند پٹھانوں کی نظر سے

مفتیِ رویت کو بھی آئے گا نظر تب

دیکھے وہ اگر چاند پٹھانوں کی نظر سے

کہتے ہو کہ دیکھا ہے قمر، سوچ لو تھوڑا

دھوکا تو نہیں کھایا کہیں عکسِ قمر سے

مفتی ہو یا ہو موسمی احوال کا ماہر

ہوئی مات نظر سب کی پٹھانوں کی نظر سے

رمضان کا ہو چاند یا ہو عیدِ فطر کا

کیا حرج ہے رویت ہو پشاور کے شہر سے

انتیس کا رمضان تو خواہش ہے سبھی کی

ہے خاص لگاؤ ہمیں عیدِ فطر سے

مظہرؔ کی طرف سے ہو دِلی عید مبارک

آنکھوں کو کیا ٹھنڈا دیدارِ قمر سے

Tuesday, 11 May 2021

Khitab-e-Momin-A believer addresses Pharaoh-Firon court

(ماخذ۔ سورہ ءِ مومن۔ القرآن)

ڈاکٹر ضیاءالمظہری کی لکھی ہوئی یہ نظم نوائے وقت کے سنڈے میگزین میں ۲ مئی ۲۰۲۱ کو شائع ہوئی۔

اپنے بہت خاص وزیروں کو بلا کے

فرعون یوں گویا ہوا دربار سجاکے

جو رائے تمھاری ہو تو موسیٰ کو سزا دوں

سوچا ہے فساد اس کا جڑ سے ہی مٹا دوں

چال پہ اپنی اب کرتا ہوں عمل میں

چھوڑو مجھے موسی کو کرتا ہوں قتل میں

موسی سے کہو اپنے رب کو وہ بلا لے

جو حشر اٹھانا ہو ذرا وہ بھی اٹھا لے

اندیشہ ہے یہ دین تمہارا نہ بدل دے

ڈرتا ہوں زمیں کو نہ فسادات سے بھر دے

موسیٰ نے کہا رب کی پناہ شر کے مقابل

حساب کے منکر متکبّر کے مقابل

فرعون کے دربار میں ایک مومن صادق

وہ بات کہی اس نے جو تھی کہنے کے لایق

ایمان ابھی دل میں چھپا رکھا تھا اس نے

محبوب مگر رب کو بنا رکھا تھا اس نے

اس شخص کو کر دو گے بھلا تم یوں قتل کیا

جو کہتا ہے میرا رب ہے فقط ایک ہی اللہ

بیّناتِ واضح اپنے رب سے لے کے آ گیا

جھوٹ باندھے گا اگر وبال اس پہ آئے گا

ہاں مگر سوچو اگر سچ وہ کہتاہے نبی

لازم تباہی آئے گی اس نے جو تم پہ کہی

راہ نہ دکھلائے اللّٰہ اس کو جو حد سے بڑھے

اور اس کو بھی نہیں جھوٹ سے جو کام لے

اے قوم کے لوگویہ سارا ملک ہے زیرِ نگیں

ہے بادشاہی تم کو حاصل اور غلبہ بر زمیں

سوچو کیا ہو گا اگر آیا اللّٰہ کا عذاب

کون آئے گا مدد کو جب ہوا ہم پہ عتاب

فرعون بولا جو مناسب ہے وہ سمجھایا تمھیں

سب سے اچھا راستہ میں نے بتلایا تمھیں

صاحبِ ایمان اپنی قوم سے گویا ہوا

ڈر ہے تمہارا حال ہو جو پہلے لوگوں کا ہوا

قومِ نوح عاد و ثمود اور لوگ ان کے بعد کے

اللٰہ کی چاہت نہیں کہ ظلم بندوں پر کرے

ڈر ہے تم بھی ایک دن کرتے پھرو آہ وفغاں

تب تم کو اللہ کے سوا نہ کوئی بھی دے گا اماں

جس کو اللہ چھوڑ دے گمراہیوں میں کھو گیا

چل کے ٹیڑھی راہ پر وہ دور رب سے ہو گیا

اس سے پہلے آئے تھے لے کے یوسف بیّنات

گو مگو میں تم رہے اور ہو گئی ان کی وفات

اور پھر بولے کہ اللہ اب نہ بھیجے گا رسول

حد سے گزرے اور شک میں ہی رہے سب بے اصول

رب کی باتوں میں کریں جھگڑا جو کافر بے دلیل

اللہ اور ایمان والوں کی نظر میں ہیں ذلیل

مغبوض لوگوں کے دلوں پر مہر اللہ کی لگے

متکبّر و جبّارسارے اس ضلالت میں گرے

فرعون یہ ہامان سے بولا محل اونچا بنا

وسعتِ افلاک کا پا سکے جو راستہ

اس پہ چڑھ کر دیکھ لوں موسی کا اللہ ہے کوئی

ہے گماں غالب کہ یہ شخص جھوٹاہے کوئی

رب نے مزیّن کر دئے فرعون کو اعمالِ بد

اس کو روکا راہ سے اسکی تباہی چالِ بد

قوم سے ایمان والے شخص نے یہ بات کی

میری مانو میں دکھاؤں راہِ رشد و بندگی

اے قوم تھوڑی سی متاع، ہے یہ دنیاوی حیات

آخرت دارالقرار اور اس کو ہے ثبات

عملِ بد کا ہو گا بس اس عمل جیسا ہی ثواب

عملِ صالح کی جزا فردوس و رزقِ بے حساب

میں بلاتا ہوں تمہیں نجاتِ دائم کی طرف

تم بلاتے ہو مجھے نارِ جھنم کی طرف

تم یہ چاہو کفر میں اپنے اللہ کا کروں

کچھ نہ جسکا علم ہو شرک میں ایسا کروں

اس کی جانب آؤ جو ہے العزیز اور زبردست

وہ ہی الغفّار ہے کرتا ہے سب کی مغفرت

جن کی جانب تم بلاتے ہو مجھے یوں بے دلیل

دنیا میں نہ آخرت میں بن سکیں میرے وکیل

ہم سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے بالیقین

اہلِ دوزخ ہونگے واں کاذبین و مسرفین

جو کہا ہے میں نے تم کو گرچہ لگتا ہے عجیب

تذکروں میں آئیں گی میری باتیں عنقریب

تفویض اللہ کی طرف کرتا ہوں اپنا معاملہ

دیکھتا ہے اپنے بندوں کو وہ ہر دم بے شبہ

مامون اللہ نے کیا مومن کو ہر اک چال سے

فرعون پر ٹوٹا عذاب اور اس کی آل پہ

نارِ دوزخ پر کئے جاتے ہیں صبح و شام پیش

اپنے گناہوں کے سبب انکو ہے یہ انجام پیش

اور قیامت کی گھڑی جب آئے گا یوم حساب

دوزخ میں ہو گا داخلہ اور پھر دگنا عذاب

سلطانِ جابر کے مقابل خطاب مومن کا ضیاؔ

حق پرستوں کے لئیے مشعلِ صدق و وفا

فرعون کے دربار میں تقریر جو مومن نے کی

قرآن ہی کے واسطے سے ہم کو پہنچی مظہریؔ

Saturday, 6 March 2021

Ghazal-karwan chala Gaya-Pak Tea House Jang

غزل ہم کو اکیلا چھوڑ کر کارواں چلا گیا

راوز نامہ جنگ جنگ کے ادبی صفحہ پاک ٹی ہاؤس میں شائع ہونے والی ڈاکٹر ضیا ء المظہری کی غزل "کارواں چلا گیا" کا تراشہ

روز نامہ جنگ کے ادبی صفحہ پاک ٹی ہاؤس میں شائع ہونے والی ڈاکٹر ضیا ء المظہری کی غزل "کارواں چلا گیا" پیشِ خدمت ہے۔ یہ غزل ۳ مارچ ۲۰۲۱ کو اس صفحہ کی زینت بنی۔

کلامِ شاعر بہ زبانِ شاعر

راوز نامہ جنگ جنگ کے ادبی صفحہ پاک ٹی ہاؤس میں شائع ہونے والی ڈاکٹر ضیا ء المظہری کی غزل "کارواں چلا گیا"

ناقہ گئی محمل گیا سارباں چلا گیا

ہم کو اکیلا چھوڑ کر کارواں چلا گیا

پرسشِ احوال کو ایک بول میٹھا سا کہا

کیا بتائیں کتنا آگے تک گماں چلا گیا

مہر و وفا و عشق کی بات ہم نے چھیڑ دی

روٹھ کر ہم سے ہمارا مہرباں چلا گیا

دلبرانِ شہر کی محفل کو سونا کر گیا

اٹھ کے محفل سے شہِ دلبراں چلا گیا

تشنہ لب ہی لوٹ کے مے کدے سے آگئے

اپنی باری آئی تو پیرِ مغاں چلا گیا

عمل تھا تنویم کا یا حسن کی جادوگری

ہم نے روکا دل مگر کشاں کشاں چلا گیا

سامنے محفل میں جب روئے جاناں آ گیا

رخصت خطابت ہو گئی زورِ بیاں چلاگیا

محنت مشقت ابتلائیں اور پھر یومِ حساب

روتا ہوا آیا یہاں گریہ کناں چلا گیا

بندگی میں زندگی جو نہ گذاری مظہریؔ

زندگی کا سفر جیسے رائیگاں چلا گیا

روزنامہ جنگ کے صفحہ کا لنک درج ذیل ہے۔

https://e.jang.com.pk/03-03-2021/lahore/page11.asp#;

Monday, 13 April 2020

Dunia-e-Muqaffil-The Locked World-Urdu Poem

Dunia e Muqaffil دنیائے مقفّل از پروفیسر مظہری

Duniya e Muqaffil

Dunia e Muqaffil-The Locked World-Urdu Poem by Prof Mazhry-Nawa e Waqt Sunday Mag-12 April 2020

روزنامہ نوائے وقت کے سنڈے میگزین میں ۱۲ اپریل ۲۰۲۰ کو شائع ہونے والی نظم دنیائے مقفل پروفیسر مظہری کی اپنی آواز میں پیش کی جاتی ہے۔

کرونا وائرس ورلڈ لاک ڈاؤن کے تناظر میں پروفیسر داکٹر ضیا ء المظہری کی لکھی ہوئی نظم "دنیائے مقفّل روزنامہ نوائے وقت کے سنڈے میگزین میں ۱۲ اپریل ۲۰۲۰ کو شائع ہوئی۔ اس ویڈیو میں ڈاکٹر صاحب کی اپنی آواز میں لاک ڈاون کے مناظر کے ساتھ نظم ناظرین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔

دنیائے مقفّل

دشمنِ نا دیدہ نے جب دھاک بٹھا دی

حضرتِ انساں نے مسیحا کو صدا دی

وہ ریشہ ءِ بے نفس جسے بولیں کرونا

خلیاتِ بدن میں کوئی ہلچل سی مچا دی

ایک ذرّہ کرونا کا گھسا ناک میں ایسے

متکبّر و جبّار کو بھی دُھول چٹا دی

بیمار تو بیمار معالج بھی ہوئے ڈھیر

دیوار سے تکنیک و ترقّی بھی لگا دی

غربت ہو امارت ہو شاہی یا گدائی

طبقات کی تفریق کرونا نے مٹا دی

بڑھایابہت خوف کو ابلاغی دَجَل نے

بھڑکی ہوئی آتش کو ذرا اور ہوا دی

مسموم سی، پر ہول سی خاموش سی دہشت

خشکی میں سمندر میں ہواؤوں میں بسا دی

ہاتھوں سےنہ چھونا کہیں چہرے کو اپنے

پابندی نقابوں کی معالج نے لگا دی

محدود رہو گھر میں جو رہنا ہے سلامت

قربت نہیں اب دوری ہی کا ہونا ہے عادی

شہروں کو مقفّل کرو ملکوں کو مقفّل

دنیا کو اِداروں نے فقط ایک صلاح دی

پورب ہو یا پچھم ہو اُتّر ہو یا دکھّن

دنیائے مقفّل میں وحشت سی بچھا دی

نہتّے ہیں معالج بھی دشمن بھی نیا ہے

جانوں کی بازی ہے طبیبوں نے لگا دی

خالق کی طرف لوٹ کے آ جاؤ اے بندو

تابوتوں میں لیٹے ہوئے لاشوں نے صدا دی

ویراں ہوئی مسجد بھی کلیسا بھی حرم بھی

مومن کے مگر دل میں اللہ کی منادی

معبود ہے تو یکتا، ہے پاک تیری ذات

بندے نے ہی ظلم اور تعدّی کو جِلا دی

ہاں کام جو تکلیف میں لے صبر و دعا سے

اللہ نے اس شخص کو خوش خبری سنا دی

بندے ہیں خدا کے ہم، مانگیں گے اسی سے

راحت بھی وہی دے گا جس نے یہ بلا دی

شامل ہو شہیدوں میں جو مر جائے وبا میں

یہ بات رسولؐ اللہ نے امت کو بتا دی

تنگی یہ کٹ جائے گی آسانی ملے گی

معبود نے بندے کو سورہ ءِ ضحیٰ دی

مایوسی بڑھاتی ہے بہت مادہ پرستی

رب ہی کو جو راضی نہ کیا عمر گنوا دی

خود بینی دروں بینی جو تنہائی میں کی تو

مقاصد کے تعیّن نے امید بڑھا دی

مومن کے لئیے موت تو پیغامِ بقا ہے

خالق کی اطاعت میں حیاتی جو بِتا دی

اللہ ہی سے اللہ ہی سے اللہ ہی سے ہو گا

پہنچا نہ ضرر اس کو جسے اس نے پناہ دی

وہ جس نے منوّر ہے کیا شمس و قمر کو

مظہرؔ کو بھی اس نے ہی تاب اور ضیاءؔ دی